چکبالاپور،20/دسمبر (ایس او نیوز) چکبالاپور تعلقہ کے تالابوں کی بھرتی کے ذریعہ آبی سطح بڑھانے کی کوشش میں حکومت نے ہیچ ین ویلی کے نام سے بنگلور کے استعمال شدہ پانی کو پاک و شفاف کرنے کے بعد یہاں پہنچانے کے پروجیکٹ کے لئے 18؍ ستمبر کو وزیر اعلیٰ سدرامیا نے سنگ بنیاد رکھا تھا ۔یہاں اس کی مخالفت شروع ہوگئی ہے۔اس کی مخالفت میں تمام پرگتی پرا کسان یو نین کنڑا پرا و یدکے ۔’’شاشواتا نیراوری ہوراٹا سمیتی ‘‘۔ بی جے پی اور جے ڈی یس سمیت حکومت و مقامی یم یل اے کے مخالفین نے آج جو شہر چکبالاپور بند کااعلان کیا تھا۔رکن اسمبلی کی مخالفت کے باوجود یہاں بند منایا گیا۔ اس سے یم یل اے سدھاکر کو ایک دھکا ہونے کی بات سنی جارہی ہے ۔پچھلے پندرہ دنوں سے بند کے تعلق سے جو اعلانات کئے گئے تھے اس کے مطابق شہر مکمل طور پر بند ہونے کے آثار دکھائی دے رہے تھے مگر اچانک مقامی یم یل اے کی ایما ء پر انکے حامیوں نے کل دیر رات بند نہ منانے کا اعلان کرایا ۔جس سے شہر کے عوام نے ان تمام کی درخواستوں پر تعاون کرنے کے لئے رضا مندی ظاہر کی تھی۔آج شہر بند ہونے اور اپنے مخالفین کی کوششوں کو روکنے اور بند کو ناکام کرنے کی غرض سے یم یل اے سدھاکر نے منگل کی رات دس بجے سے اعلان کرانا شروع کیا کہ عوام بند نہ کریں اور یہ منصوبہ بہت اہم ہے اس لئے اسکی مخالفت نہ کریں چند لوگ اپنے سیاسی فائدہ کے لئے بند کرا رہے ہیں ۔ اس اعلان سے عوام میں ہلچل مچ گئی ۔آج صبح بند کے دوران صبح 5 بجے سے ہی احتجاجی راستے پر اتر آئے او ر یہاں کے سلگٹہ سرکل سمیت تمام راستوں پر نعرے بازی کی دن گذرتے جب دونوں بند کرانے والے اور بند کو روکنے والوں کی ٹکرسلگٹہ سرکل میں آمنے سامنے ہوگئی تو آپسی نعرے بازی اور ایک دوسر ے کے خلاف آوازیں بڑھنے لگیں ،جس کی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس سے موجودہ احتجاجیوں اور بند کے مخالفین نے اپنے اپنے راستے پکڑ لئے ۔اس دوران جلوس کی شکل میں نکل کر50سے زائد احتجاجی افراد کو گرفتار کرکے یس پی آفس بند رکھا تھا ۔اس دوران احتجاجیوں نے الزام عائد کیا کہ مقامی یم یل اے سدھاکر اپنے اقتدار کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہم سب احتجاجیوں پر ظلم کر رہے ہیں اور اپنی مقبولیت میں کمی آنے کے پیش نظر انہوں نے اس بند کی مخالفت کرنے اور اپنے حامیوں اور پولیس کے ذریعے ہم پر دباؤ ڈال کر بند ناکام کرنے کی کوشش کی ہے۔ یم یل اے ڈاکٹر سدھاکر کی مخالفت کے باوجود بھی آج کا یہ بند پرامن کامیاب ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور اس بند کے پیش نظر تمام پرائیوٹ اسکولس و کالجس کو چھٹی دے دی گئی تھی اور بند کے دوران تمام سرکاری اسکولس بھی بند رہے ۔راستوں پر چند سرکاری و پرائیویٹ بسیں دوڑتی دکھائی دیں۔ ضلع یس پی کارتک ریڈی کی زیر نگرانی میں پولیس کا معقول انتظام کیا گیا تھا اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ واقع پیش نہیں آیا ہے ۔